
Inqalabi Shaa’ir
📅 1928 - 1993 | 📍 Pakistanغزل – حبیب جالب
غزل – حبیب جالب
ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
کسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہم
ہزار زیر قدم راستہ ہو خاروں کا
جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم
اسی لیے تو نہیں معتبر زمانے میں
کہ رنگ صورت دنیا نہیں بدلتے ہم
ہوا کو دیکھ کے جالبؔ مثال ہم عصراں
بجا یہ زعم ہمارا نہیں بدلتے ہم
مجموعی مطلب:
شاعر کہتا ہے کہ ہم بھیڑ یا خوف سے اپنا راستہ نہیں بدلتے، مشکلیں آئیں تب بھی ارادہ قائم رکھتے ہیں، دنیا کے بدلتے رنگ دیکھ کر اپنے اصول نہیں چھوڑتے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| ہجوم | بھیڑ، بہت زیادہ لوگ |
| زیرِ قدم | قدموں کے نیچے |
| خاروں | کانٹوں |
| معتبر | قابلِ اعتبار، بھروسا کے لائق |
| ہوا کو دیکھ کے | حالات کو دیکھ کر، ماحول کے مطابق |
| ہم عصراں | اپنے زمانے کے لوگ، ہم دور لوگ |
| زعم | گمان، غرور، خیال |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved