
koi laqab nahi mila
📅 1925 - 1972 | 📍 Pakistanغزل – ناصر کاظمی
غزل – ناصر کاظمی
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست
تو مصیبت میں عجب یاد آیا
دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
تیرا بھولا ہوا پیمان وفا
مر رہیں گے اگر اب یاد آیا
پھر کئی لوگ نظر سے گزرے
پھر کوئی شہر طرب یاد آیا
حال دل ہم بھی سناتے لیکن
جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا
بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصرؔ
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا
مجموعی مطلب
ناصر کاظمی کی یہ غزل انسانی نفسیات اور یادوں کے اس لمحاتی غلبے کی عکاسی کرتی ہے جہاں انسان اپنے روزمرہ کے کاموں میں گم ہوتا ہے کہ اچانک کسی ایک پل میں بھولی ہوئی یادیں دل کی دستک بن جاتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ دل کی بے چینی اور دھڑکن کی تیزی کا سبب دراصل محبوب کی یاد تھی جو ایک مدت بعد آئی۔ غزل کے اشعار میں ایک عجیب سی حسرت اور ندامت کا رنگ ہے، خاص طور پر اس شعر میں جہاں شاعر افسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے دل کا حال محبوب کو سنانا چاہتا تھا مگر اسے اس بات کی توفیق تب ہوئی جب محبوب رخصت ہو چکا تھا۔ مقطع میں پھولوں کے سائے میں بیٹھ کر محبوب کو یاد کرنا اور رونا، ناصر کے اس مخصوص جمالیاتی اداسی کے رنگ کو نمایاں کرتا ہے جہاں قدرت کے حسین مناظر بھی محبوب کی کمی کو شدت سے محسوس کرواتے ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| سبب | وجہ / بنیاد |
| وعدۂ شب | رات کا وعدہ (ملاقات کا وعدہ) |
| پیمانِ وفا | وفا کا عہد / قول و قرار |
| شہرِ طرب | خوشی کا شہر / محفلِ نشاط |
| رخصت | جدا ہونا / الوداع |
| سایۂ گل | پھول کا سایہ |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved