download 10

Faiz Ahmed Faiz

Shair-e-Inqilab

📅 1911 - 1984 | 📍 Pakistan


غزل – فیض احمد فیض

نہ کسی پر زخم عیاں کوئی

غزل- فیض احمد فیض

نہ کسی پر زخم عیاں کوئی ، نہ کسی کو فکر رفو کی ہے
نہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا نہ نگاہ ہم پہ عدد کی ہے

صف زاہداں ہے تو بے یقیں ، صف میکشاں ہے تو بے طلب
نه وه صبح دردو وضو کی ہے، نہ وہ شام جام و سبو کی ہے

نہ یہ غم نیا، نہ ستم نیا، کہ تری جفا کا گلا کریں
یہ نظر تھی پہلے بھی مضطرب، یہ کسک تو دل میں کبھوکی ہے

کف باغباں پہ بہار گل کا ہے قرض پہلے سے بیشتر
کہ ہر ایک پھول کے پیرہن، میں نمود میرے لہوتی ہے

نہیں خوف روز سیہ ہمیں ، کہ ہے فیض ظرف نگاہ میں
ابھی گوشہ گیر وہ اک کرن، جو لگن اُس آئینہ رو کی ہے

مجموعی مطلب
فیض احمد فیض کی یہ غزل معاشرے میں پھیلی ہوئی بے حسی اور جمود کا نقشہ کھینچتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اب نہ تو دوستوں میں وہ پہلے جیسی ہمدردی رہی اور نہ ہی دشمنوں کی نظر میں وہ شدت۔ زاہد ہوں یا رند، سب اپنی اصل روح کھو چکے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گلشن کی بہار دراصل ان جیسے عاشقوں اور جان نثاروں کے خون (قربانیوں) کی مرہونِ منت ہے۔ غزل کے آخر میں وہ ایک مثبت پیغام دیتے ہیں کہ چاہے کتنی ہی تاریکی کیوں نہ ہو، امید کی ایک کرن ابھی بھی ان کے دل کے کسی کونے میں محفوظ ہے جو انہیں ہارنے نہیں دیتی۔

Copy 📋

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
عیاںظاہر / کھلا ہوا
فکرِ رفوزخم سینے کی فکر / علاج کی کوشش
عدودشمن
جام و سبوشراب کا پیالہ اور صراحی
جفاظلم / بے وفائی
کفِ باغباںمالی کی ہتھیلی
نمودظہور / دکھاوا
گوشہ گیرکونے میں چھپی ہوئی / الگ تھلگ

مزید متعلقہ پوسٹس

Parveen Shakir Ghazals
احمد فراز کی غزلیں
Ghazals of Munir Niazi
Ghazals of Nasir Kazmi
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →