download 10

Faiz Ahmed Faiz

Shair-e-Inqilab

📅 1911 - 1984 | 📍 Pakistan

نہ کسی پر زخم عیاں کوئی


غزل – فیض احمد فیض

نہ کسی پر زخم عیاں کوئی ، نہ کسی کو فکر رفو کی ہے
نہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا نہ نگاہ ہم پہ عدد کی ہے

صف زاہداں ہے تو بے یقیں ، صف میکشاں ہے تو بے طلب
نه وه صبح دردو وضو کی ہے، نہ وہ شام جام و سبو کی ہے

نہ یہ غم نیا، نہ ستم نیا، کہ تری جفا کا گلا کریں
یہ نظر تھی پہلے بھی مضطرب، یہ کسک تو دل میں کبھوکی ہے

کف باغباں پہ بہار گل کا ہے قرض پہلے سے بیشتر
کہ ہر ایک پھول کے پیرہن، میں نمود میرے لہوتی ہے

نہیں خوف روز سیہ ہمیں ، کہ ہے فیض ظرف نگاہ میں
ابھی گوشہ گیر وہ اک کرن، جو لگن اُس آئینہ رو کی ہے