
Mufti-e-Hind
📅 1892 - 1981 | 📍 Pakistan“دیوان “سامانِ بخشش
نعت- حضور مفتیِ ہند
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
دل و جاں ان پر نثارا کروں میں
ترا کفشِ پا یوں سنوارا کروں میں
کہ پلکوں سے اوس کو بہارا کروں میں
تری رحمتیں عام ہیں پھر بھی پیارے
یہ صدماتِ فرقت سہارا کروں میں
مجھے اپنی رحمت سے تو اپنا کر لے
سوا تیرے سب سے کنارا کروں میں
میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھانے جاؤں
ترے در سے اپنا گزارا کروں میں
سلاسل مصائب کے ابرو سے کاٹو
کہاں تک مصائب گوارا کروں میں
خدارا اب آؤ کہ دم ہے لبوں پر
دمِ واپسیں تو نظارا کروں میں
ترے نام پر سر کو قربان کر کے
ترے سر سے صدقہ اتارا کروں میں
یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں
ترے نام پر سب کو وارا کروں میں
مجھے ہاتھ آئے اگر تاجِ شاہی
تری کفشِ پا پر نثارا کروں میں
ترا ذکر لب پر خدا دل کے اندر
یونہی زندگانی گزارا کروں میں
دمِ واپسی تک ترے گیت گاؤں
محمد محمد پکارا کروں میں
ترے در کے ہوتے کہاں جاؤں پیارے
کہاں اپنا دامن پسارا کروں میں
مرا دین و ایماں فرشتے جو پوچھیں
تمہاری ہی جانب اشارہ کروں میں
خدا ایسی قوت دے میرے قلم میں
کہ بد مذہبوں کا سدھارا کروں میں
جو ہو قلب سونا تو یہ ہے سہاگا
تری یاد سے دل نکھارا کروں میں
خدا ایک پر ہو تو اک پر محمد
اگر قلب اپنا دو پارہ کروں میں
خدا خیر سے لائے وہ دن بھی
نوریؔ مدینے کی گلیاں بہارا کروں میں
Note: Ye khubsoorat naat shareef Huzoor Mufti-e-Azam Hind ke mashhoor naatiya deewan “Saman-e-Bakhshish” (سامانِ بخشش) se li gayi hai.
مجموعی مطلب
مجموعی مطلباس نعت شریف کا مرکزی خیال عشقِ رسول ﷺ، عاجزی اور درِ مصطفیٰ ﷺ پر کامل توکل ہے۔ شاعر اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری زندگی کا کل اثاثہ اور سب سے بڑی تمنا یہ ہے کہ مجھے حضور ﷺ کا دیدار نصیب ہو جائے اور میں اپنی جان ان پر قربان کر دوں۔ وہ دنیا کے تمام سہاروں اور غیروں کی ٹھوکریں کھانے کے بجائے صرف آپ ﷺ کے در کا فقیر بنے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ نعت کے آخری اشعار میں مرتے وقت اور قبر میں فرشتوں کے سوالات کے جواب میں بھی صرف آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی کو اپنا دین و ایمان قرار دینے کی تڑپ پیش کی گئی ہے۔ یہ کلام ایک مومن کی بے پناہ عقیدت اور جذباتی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| نثارا کروں میں | قربان کروں میں / صدقے کروں میں |
| کفشِ پا | مبارک جوتا / نعلین پاک |
| سہرہ کروں میں | سر کا تاج بناؤں / عزت دوں |
| بہارا کروں میں | صاف کروں / جھاڑوں (پلکوں سے دھول صاف کرنا) |
| صدماتِ فرقت | جدائی کے دکھ اور غم |
| کنارا کروں میں | دور ہو جاؤں / چھوڑ دوں |
| سلاسل | زنجیریں (سلسلہ کی جمع) |
| ابرو سے کاٹو | اپنے ابرو (ابرو کے اشارے) سے ختم کر دیں |
| دمِ واپسیں | آخری سانس / موت کا وقت |
| وارا کروں میں | قربان کروں / نچھاور کروں |
| پسارا کروں میں | پھیلاؤں (ہاتھ پھیلانا یا دامن پھیلانا) |
| مرا دین و ایماں | میرا دین اور میرا ایمان |
| سدھارا | اصلاح کرنا / سیدھے راستے پر لانا |
| سہاگا | کسی چیز کو مزید چمکدار اور قیمتی بنا دینے والی چیز (جیسے سونے کو نکھارنا) |
| بہارا کروں | جھاڑو دوں / صاف کروں (ادب و محبت کے ساتھ) |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved