Untitled design 1

Allama Iqbal

Shair e Mashriq

📅 1877 - 1938 | 📍 Pakistan

غزل – علامہ اقبال

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہيں

غزل – علامہ اقبال

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہيں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہيں

تہی ، زندگی سے نہيں يہ فضائيں
يہاں سينکڑوں کارواں اور بھی ہيں

قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشياں اور بھی ہيں

اگر کھو گيا اک نشيمن تو کيا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہيں

تو شاہيں ہے ، پرواز ہے کام تيرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہيں

اسی روز و شب ميں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تيرے زمان و مکاں اور بھی ہيں

گئے دن کہ تنہا تھا ميں انجمن ميں
يہاں اب مرے رازداں اور بھی ہيں

مجموعی مطلب
حکیم الامت علامہ اقبال کی یہ غزل انسان کو جمود توڑنے اور کائنات کی وسعتوں کو تسخیر کرنے کا درس دیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کی منزل صرف یہی دنیا یا محدود کامیابیاں نہیں ہیں، بلکہ اسے ابھی علم و عشق کے مزید کٹھن امتحانات سے گزر کر نئی دنیائیں تلاش کرنی ہیں۔ وہ “شاہین” کے استعارے سے نوجوانوں کو سمجھاتے ہیں کہ تمہارا کام بلند پروازی ہے، اس لیے محض حال کی آسائشوں پر قناعت نہ کرو بلکہ ستاروں سے آگے نئے جہانوں کی تلاش جاری رکھو۔ یہ غزل مایوسی کے بجائے حوصلے اور مسلسل آگے بڑھنے کی تڑپ پیدا کرتی ہے کہ اگر ایک ٹھکانہ چھن بھی جائے تو ہمت ہارنے کے بجائے نئی منزلوں کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
تہیخالی (Empty)
کارواںقافلہ / مسافروں کا گروہ
قناعتصبر و شکر کرنا / تھوڑے پر خوش رہنا
عالمِ رنگ و بویہ مادی دنیا / رونقوں بھری دنیا
نشیمن / آشیاںگھر یا پرندے کا گھونسلہ
آہ و فغاںرونا پیٹنا / دکھ اور فریاد
زمان و مکاںوقت اور جگہ (Time and Space)
انجمنمحفل / مجلس
رازداںراز جاننے والا / سچا دوست

مزید متعلقہ پوسٹس

گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
چمن میں رنگ بہار اترا تو میں نے دیکھا
عیشِ امید ہی سے خطرہ ہے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →