Untitled design 4

Amjad Islam Amjad

Modern Urdu Poet

📅 1944 - 2023 | 📍 Pakistan

امجد اسلام امجد کی نظم

میں گیا تھا اُس گلی میں

نظم-امجد اسلام امجد

میں گیا تھا اُس گلی میں کئی خواہشیں پہن کر
وہ جو تھیں بہت شناسا
انہی کھڑکیوں سے اب کے
کسی زخ کی روشنی سے نہ چراغ کوئی لرزا
نہ کوئی ستارا چمکا، نہ ہی پھول کوئی آیا
دل منتظر کی جانب
نہ اُٹھائی کوئی چلمن کسی دست پر حنا نے
نہ صبا کی دستکوں سے کوئی پردا سر سرایا
کسی خواب سے الجھ کر نہ تو چوڑیاں ہی چھنکیں
کسی آنکھ میں سمٹ کر نہ ہی چاند مسکرایا
میں گیا تھا اُس گلی میں کئی خواہشیں پہن کر

مجموعی مطلب

اس شاعری میں شاعر اُس گلی میں واپس جاتا ہے جہاں کبھی محبت، خواب اور اپنائیت کی یادیں آباد تھیں۔ وہ دل میں بہت سی امیدیں اور خواہشیں لے کر جاتا ہے، لیکن وہاں پہنچ کر اُسے سب کچھ خاموش اور ویران محسوس ہوتا ہے۔ نہ پہلے جیسی روشنی، نہ خوشبو، نہ انتظار، نہ محبت کے آثار باقی رہتے ہیں۔ شاعر کو یوں لگتا ہے جیسے وقت نے اُس جگہ کی تمام رونقیں چھین لی ہوں اور اُس کی امیدیں ادھوری رہ گئی ہوں۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
شناساجان پہچان والا، مانوس
لرزاکانپا، ہلکا سا ہلا
منتظرانتظار کرنے والا
چلمنپردہ
دستہاتھ
حنامہندی
صباہلکی خوشگوار ہوا
سر سرایاآہستہ آہستہ ہلنا یا آواز کرنا
سمٹ کرسکڑ کر، محدود ہو کر

مزید شاعری پڑھیں

مزید متعلقہ پوسٹس

Nazams of Allama Iqbal
Nazams of Amjad Islam Amjad
تمہیں کتنا چاہتے ہیں – نظم
Nazams Faiz Ahmed Faiz
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →