
Modern Urdu Poet
📅 1944 - 2023 | 📍 Pakistanنظم-امجد اسلام امجد
میں گیا تھا اُس گلی میں کئی خواہشیں پہن کر
وہ جو تھیں بہت شناسا
انہی کھڑکیوں سے اب کے
کسی زخ کی روشنی سے نہ چراغ کوئی لرزا
نہ کوئی ستارا چمکا، نہ ہی پھول کوئی آیا
دل منتظر کی جانب
نہ اُٹھائی کوئی چلمن کسی دست پر حنا نے
نہ صبا کی دستکوں سے کوئی پردا سر سرایا
کسی خواب سے الجھ کر نہ تو چوڑیاں ہی چھنکیں
کسی آنکھ میں سمٹ کر نہ ہی چاند مسکرایا
میں گیا تھا اُس گلی میں کئی خواہشیں پہن کر
اس شاعری میں شاعر اُس گلی میں واپس جاتا ہے جہاں کبھی محبت، خواب اور اپنائیت کی یادیں آباد تھیں۔ وہ دل میں بہت سی امیدیں اور خواہشیں لے کر جاتا ہے، لیکن وہاں پہنچ کر اُسے سب کچھ خاموش اور ویران محسوس ہوتا ہے۔ نہ پہلے جیسی روشنی، نہ خوشبو، نہ انتظار، نہ محبت کے آثار باقی رہتے ہیں۔ شاعر کو یوں لگتا ہے جیسے وقت نے اُس جگہ کی تمام رونقیں چھین لی ہوں اور اُس کی امیدیں ادھوری رہ گئی ہوں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| شناسا | جان پہچان والا، مانوس |
| لرزا | کانپا، ہلکا سا ہلا |
| منتظر | انتظار کرنے والا |
| چلمن | پردہ |
| دست | ہاتھ |
| حنا | مہندی |
| صبا | ہلکی خوشگوار ہوا |
| سر سرایا | آہستہ آہستہ ہلنا یا آواز کرنا |
| سمٹ کر | سکڑ کر، محدود ہو کر |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved