Untitled design 13

Nasir Kazmi

koi laqab nahi mila

📅 1925 - 1972 | 📍 Pakistan

غزل – ناصر کاظمی

یاد آتا ہے روز و شب کوئی

غزل – ناصر کاظمی

یاد آتا ہے روز و شب کوئی
ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی

لبِ جو چھاؤں میں درختوں کی
وہ ملاقات تھی عجب کوئی

جب تجھے پہلی بار دیکھا تھا
وہ بھی تھا موسمِ طرب کوئی

کچھ خبر لے کہ تیری محفل سے
دور بیٹھا ہے جاں بلب کوئی

نہ غمِ زندگی نہ دردِ فراق
دل میں یوں ہی سی ہے طلب کوئی

یاد آتی ہیں دور کی باتیں
پیار سے دیکھتا ہے جب کوئی

چوٹ کھا ئی ہے بارہا لیکن
آج تو درد ہے عجب کوئی

جن کوئی مِٹنا تھا مِٹ چکے ناصر
ان کو رسوا کرے نہ اب کوئی

مجموعی مطلب
ناصر کاظمی کی یہ غزل ماضی کی خوبصورت یادوں، اداسی اور خاموش محبت کی ایک بہترین عکاسی ہے۔ شاعر اپنے گزرے ہوئے لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کسی بے سبب روٹھے ہوئے محبوب کی یاد اسے دن رات تڑپاتی ہے۔ غزل کے اشعار میں وہ پرانی ملاقاتیں، درختوں کی چھاؤں اور پہلی بار دیکھنے کا وہ خوشگوار موسم (طرب) ایک فلم کی طرح نظروں کے سامنے آ جاتا ہے۔ ناصر نے اس کلام میں اپنی تنہائی اور محرومی کا ذکر بھی بڑے پر اثر انداز میں کیا ہے کہ وہ محبوب کی محفل سے دور جاں بلب (مرنے کے قریب) بیٹھے ہیں۔ غزل کا آخری حصہ ان لوگوں کے لیے ایک التجا ہے جو دنیا سے مٹ چکے ہیں کہ اب انہیں مزید رسوا نہ کیا جائے۔ یہ غزل ناصر کاظمی کے مخصوص “یادِ ماضی” کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ایک شاہکار تخلیق ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
بے سبببغیر کسی وجہ کے
لبِ جوندی یا نہر کا کنارہ
جاں بلبجان لبوں پر ہونا / بہت قریبِ مرگ
دردِ فراقجدائی کا دکھ
بارہاکئی بار / اکثر
رسوابدنام

مزید متعلقہ پوسٹس

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
بہت رنجور ہونا بھی، بہت مجبور ہونا بھی
چمن میں رنگ بہار اترا تو میں نے دیکھا
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →