
Sufi
📅 1830 – 1907 | 📍 Pakistanنوٹ: میاں محمد بخشؒ کا درج ذیل تمام صوفیانہ کلام ان کی شہرہ آفاق کتاب اور صوفیانہ شاہکار ”قصہ سیف الملوک“ سے لیا گیا ہے۔
کلام – میاں محمد بخش
اول حمد ثناء الٰہی، جو مالک ہر ہر دا
اس دا ناں چتارن والا، کسے میدان نہ ہردا
میں گلیاں دا روڑا کوڑا، محل چڑھایا سائیں
صدقے جاواں تیں توں نِیمھاں، لاج نباہیں تائیں
کچے گھڑے نہ لکّھ لبھیندے، جڑے کچے چِیر
پکڑدے نال محبت اوہی کھڑدے، جیہڑے پکے پیر
پکڑدےعشق تیرے دی ترنگ محمد، چڑھ جائے پھر
ملیں گے سجناں گناہاں دی سجدہ، کونو ہاری ہو جاوے گی
دردمنداں نوں یاد سجن دی، سُتے آ جگاوے ملے تے
میں گل وچ پا لواں، درد دی ماری مت رخصت ہووے
تو بیلی تے سب جگ بیلی، تو نہ بیلی تے کوئی نہیں سجناں
باجھ محمد بخشا، اج ساہ جی پئی نوں لئی نہیں
باہجھ بھراواں پچھیا جاوے، کد ننگی ہووے پِٹھی
پچھ پچھے قبیلے ہووے، گال بھی لگدی مٹھی
تیرے اچھے ہرا پڑھ دارو، پھر مڑ نہیں پاویں گا
لے او یار حوالے رب دے، جس دن پھر ملیں گے
شعر 1: سب سے پہلے اس اللہ کی حمد و ثنا ہے جو ہر ایک چیز کا مالک ہے۔ اس پاک ذات کا نام دل میں بسانے والا زندگی کے کسی میدان میں شکست نہیں کھاتا۔
شعر 2: میں تو گلیوں کے ایک معمولی اور بے وقعت پتھر (روڑے) کی طرح تھا، لیکن میرے مالک کے کرم نے مجھے محلوں جتنا بلند رتبہ دے دیا۔
میں اس کی اس رحمت پر قربان جاؤں جو مجھ جیسے عاجز کی لاج رکھ لیتا ہے۔
شعر 3: جو لوگ کچے دھاگے یا ناپائیدار سہاروں پر بھروسا کرتے ہیں وہ منزل نہیں پاتے۔ محبت اور وفاداری کا حق وہی نبھا سکتے ہیں جن کے ارادے اور تعلق پکے ہوں۔
شعر 4: اے محمد بخش! اگر دل پر سچے عشقِ الٰہی کی لہر (ترنگ) سوار ہو جائے تو مالک ضرور ملتا ہے، اور انسان کے سارے گناہ اور عیب دور ہو جاتے ہیں۔
شعر 5: دردمند دوں کو جب اپنے پیارے رب یا مرشد کی یاد آتی ہے تو وہ غفلت کی نیند سے بیدار ہو جاتے ہیں۔ دل تڑپ کر کہتا ہے کہ اگر وہ مل جائیں
تو میں انہیں گلے سے لگا لوں تاکہ یہ دردمند جان سکون پا جائے۔
شعر 6: اگر تو (میرا رب) میرا سچا دوست ہے تو پوری دنیا میری دوست ہے، اور اگر تو ہی ناراض ہو جائے تو کوئی پاس نہیں رہتا۔ تیرے بغیر تو یہ
سانسیں بھی بوجھ معلوم ہوتی ہیں۔
شعر 7: بھائیوں اور اپنوں کے بغیر انسان کا دفاع کمزور ہو جاتا ہے اور پیٹھ ننگی ہو جاتی ہے۔ اگر پیچھے اپنا قبیلہ اور مخلص لوگ کھڑے ہوں، تو دنیا کی
کڑوی بات بھی انسان ہنس کر برداشت کر لیتا ہے۔
شعر 8: زندگی کے یہ خوبصورت دن اور سانسیں دوبارہ لوٹ کر نہیں آئیں گی۔ آخرکار ایک دن سب کچھ رب کے حوالے کر کے دنیا سے رخصت ہونا ہے
اور اصل عید کا دن وہی ہوگا جس دن دوبارہ اپنے پیاروں اور رب سے ملاقات ہوگی۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| ثناء | تعریف، حمد و ثنا |
| چتارن والا | یاد کرنے والا، دل میں بسانے والا |
| روڑا کوڑا | گلی کا معمولی پتھر اور کچرا (بے وقعت چیز) |
| سائیں | مالک، مراد اللہ پاک کی ذات |
| تیں توں | تجھ پر سے، آپ پر سے |
| نِیمھاں | عاجز، جھکا ہوا، کم تر |
| لاج | عزت، بھرم |
| تائیں | تک (لاج نباہیں تائیں: آخر تک بھرم رکھنا) |
| لکّھ لبھیندے | منزل پاتے ہیں، لاکھوں پا لیتے ہیں |
| چِیر | دھاگا، کچا سہارا |
| ترنگ | لہر، موج، جوش |
| کونو ہاری | معاف ہو جانا، ختم ہو جانا، مٹ جانا |
| سُتے | سوئے ہوئے کو |
| گل وچ پا لواں | گلے سے لگا لوں، آغوش میں لے لوں |
| مت | عقل، ہوش و حواس |
| بیلی | دوست، یار، مددگار |
| جگ | دنیا، جہان |
| باجھ / باہجھ | بغیر، سوا |
| ساہ | سانس |
| پِٹھی | پیٹھ، کمر (مراد انسان کا دفاع) |
| گال | کڑوی بات، گالی، برا بھلا |
| دارو | علاج، دوا |
| مڑ | دوبارہ، پھر سے |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved