
Ustad-e-Zaman
📅 1859 - 1908 | 📍 Indiaنعت- – حسن رضا خان بریلوی
سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر
سوئے جنت کون جائے در تمہارا چھوڑ کر
سر گزشتِ غم کہوں کس سے تیرے ہوتے ہوئے
کس کے در پر جاؤں تیرا آستانہ چھوڑ کر
مر ہی جاؤں میں اگر اس در سے جاؤں دو قدم
کیا بچے بیمار غم قربِ مسیحا چھوڑ کر
بخشوانا مجھ سے عاصی کاروا ہو گا کسے
کس کے دامن میں چھپوں دامن تمہارا چھوڑ کر
ایسے جلوے پر کروں میں لاکھ حوروں کو نثار
کیا غرض کیوں جاؤں جنت کو مدینہ چھوڑ کر
حشر میں ایک ایک کا منہ تکتے پھرتے ہیں عد و
آ فتوں میں پھنس کئے ان کا سہارا چھوڑ کر
مر کے جیتے ہیں اُن کے در پہ جاتے ہیں حسن
جی کے مرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر
یہ نعتیہ کلام عاشقِ رسول ﷺ کی مدینہ منورہ اور بارگاہِ رسالت ﷺ سے بے پناہ محبت کا اظہار ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ کا دربار نصیب ہو تو پھر دنیا کے باغات، سیر و تفریح، حتیٰ کہ جنت کی نعمتیں بھی دل کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتیں۔ ہر مشکل، ہر غم اور ہر پریشانی میں حضور ﷺ ہی سہارا ہیں۔ شاعر اپنے گناہوں کی معافی، نجات اور شفاعت کے لیے بھی حضور ﷺ کے دامنِ رحمت کو ہی کافی سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک مدینہ منورہ کی محبت اور قرب دنیا و آخرت کی ہر نعمت سے بڑھ کر ہے، اور جو لوگ مدینہ سے دور ہو جاتے ہیں وہ گویا زندہ رہ کر بھی روحانی طور پر مردہ ہو جاتے ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| سیرِ گلشن | باغ کی سیر |
| دشتِ طیبہ | مدینہ منورہ کی سرزمین |
| سوئے جنت | جنت کی طرف |
| سرگزشتِ غم | غموں کی داستان |
| آستانہ | دربار، چوکھٹ |
| قربِ مسیحا | شفا دینے والے کے قریب ہونا |
| بخشوانا | بخشش کروانا |
| عاصی | گناہ گار |
| کاروا | کام، معاملہ |
| دامن | پناہ، سہارا |
| جلوہ | حسن و جمال کا نظارہ |
| حور | جنت کی حسین عورت |
| حشر | قیامت کا دن |
| عدو | دشمن |
| آفتوں | مصیبتوں |
| سہارا | مددگار، پناہ دینے والا |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved