nayab urdu shairy 9

Huzoor Mufti-e-Azam Hind

Mufti-e-Hind

📅 1892 - 1981 | 📍 Pakistan

حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں

“دیوان “سامانِ بخشش

حبیبِ خدا کا نظارا

نعت- حضور مفتیِ  ہند

حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
دل و جاں ان پر نثارا کروں میں

ترا کفشِ پا یوں سنوارا کروں میں
کہ پلکوں سے اوس کو بہارا کروں میں

تری رحمتیں عام ہیں پھر بھی پیارے
یہ صدماتِ فرقت سہارا کروں میں

مجھے اپنی رحمت سے تو اپنا کر لے
سوا تیرے سب سے کنارا کروں میں

میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھانے جاؤں
ترے در سے اپنا گزارا کروں میں

سلاسل مصائب کے ابرو سے کاٹو
کہاں تک مصائب گوارا کروں میں

خدارا اب آؤ کہ دم ہے لبوں پر
دمِ واپسیں تو نظارا کروں میں

ترے نام پر سر کو قربان کر کے
ترے سر سے صدقہ اتارا کروں میں

یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں
ترے نام پر سب کو وارا کروں میں

مجھے ہاتھ آئے اگر تاجِ شاہی
تری کفشِ پا پر نثارا کروں میں

ترا ذکر لب پر خدا دل کے اندر
یونہی زندگانی گزارا کروں میں

دمِ واپسی تک ترے گیت گاؤں
محمد محمد پکارا کروں میں

ترے در کے ہوتے کہاں جاؤں پیارے
کہاں اپنا دامن پسارا کروں میں

مرا دین و ایماں فرشتے جو پوچھیں
تمہاری ہی جانب اشارہ کروں میں

خدا ایسی قوت دے میرے قلم میں
کہ بد مذہبوں کا سدھارا کروں میں

جو ہو قلب سونا تو یہ ہے سہاگا
تری یاد سے دل نکھارا کروں میں

خدا ایک پر ہو تو اک پر محمد
اگر قلب اپنا دو پارہ کروں میں

خدا خیر سے لائے وہ دن بھی
نوریؔ مدینے کی گلیاں بہارا کروں میں

Note: Ye khubsoorat naat shareef Huzoor Mufti-e-Azam Hind ke mashhoor naatiya deewan “Saman-e-Bakhshish” (سامانِ بخشش) se li gayi hai.

مجموعی مطلب

مجموعی مطلباس نعت شریف کا مرکزی خیال عشقِ رسول ﷺ، عاجزی اور درِ مصطفیٰ ﷺ پر کامل توکل ہے۔ شاعر اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری زندگی کا کل اثاثہ اور سب سے بڑی تمنا یہ ہے کہ مجھے حضور ﷺ کا دیدار نصیب ہو جائے اور میں اپنی جان ان پر قربان کر دوں۔ وہ دنیا کے تمام سہاروں اور غیروں کی ٹھوکریں کھانے کے بجائے صرف آپ ﷺ کے در کا فقیر بنے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ نعت کے آخری اشعار میں مرتے وقت اور قبر میں فرشتوں کے سوالات کے جواب میں بھی صرف آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی کو اپنا دین و ایمان قرار دینے کی تڑپ پیش کی گئی ہے۔ یہ کلام ایک مومن کی بے پناہ عقیدت اور جذباتی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
نثارا کروں میںقربان کروں میں / صدقے کروں میں
کفشِ پامبارک جوتا / نعلین پاک
سہرہ کروں میںسر کا تاج بناؤں / عزت دوں
بہارا کروں میںصاف کروں / جھاڑوں (پلکوں سے دھول صاف کرنا)
صدماتِ فرقتجدائی کے دکھ اور غم
کنارا کروں میںدور ہو جاؤں / چھوڑ دوں
سلاسلزنجیریں (سلسلہ کی جمع)
ابرو سے کاٹواپنے ابرو (ابرو کے اشارے) سے ختم کر دیں
دمِ واپسیںآخری سانس / موت کا وقت
وارا کروں میںقربان کروں / نچھاور کروں
پسارا کروں میںپھیلاؤں (ہاتھ پھیلانا یا دامن پھیلانا)
مرا دین و ایماںمیرا دین اور میرا ایمان
سدھارااصلاح کرنا / سیدھے راستے پر لانا
سہاگاکسی چیز کو مزید چمکدار اور قیمتی بنا دینے والی چیز (جیسے سونے کو نکھارنا)
بہارا کروںجھاڑو دوں / صاف کروں (ادب و محبت کے ساتھ)

مزید متعلقہ پوسٹس

کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں
Naats Sharif of Ahmed Raza Khan
نہ ہو آ رام جس بیمار کو نعت
کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →