
Shair-e-Romance
📅 1931 - 2008 | 📍 Pakistanغزل – احمد فراز
غزل – احمد فراز
خود آپ اپنی نظر میں حقیر میں بھی نہ تھا
اس اعتبار سے اس کا اسیر میں بھی نہ تھا
بنا بنا کے بہت اس نے جی سے باتیں کی
میں جانتا تھا مگر حرف گیر میں بھی نہ تھا
نبھا رہا ہے یہی وصف دوستی شاید
وہ بے مثال نہ تھا بے نظیر میں بھی نہ تھا
سفر طویل سہی گفتگو مزے کی رہی
وہ خوش مزاج اگر تھا تو میر میں بھی نہ تھا
میں برگ آخر شہر خزاں تھا خاک ہوا
کھلا کہ موسم گل کا سفیر میں بھی نہ تھا
میں کہہ رہا تھا رفیقوں سے جی کڑا رکھو
چلا جو درد کا اک اور تیر میں بھی نہ تھا
ستم کے عہد میں چپ چاپ جی رہا ہوں فراز
سو دوسروں کی طرح با ضمیر میں بھی نہ تھا
مجموعی مطلب
احمد فراز کی یہ غزل اپنی ذات کے وقار اور انسانی رشتوں کی حقیقت پسندی کا ایک خوبصورت بیان ہے۔ مطلع میں شاعر واضح کرتا ہے کہ اس نے کبھی اپنی نظر میں خود کو گرنے نہیں دیا، اور اسی خودداری کی وجہ سے وہ کسی کا ذہنی غلام یا اسیر نہیں بنا۔ غزل کے اشعار میں ایک طرف تو یہ ظرف نظر آتا ہے کہ محبوب کی بناوٹی باتوں کو جانتے ہوئے بھی شاعر نے اسے ٹوکا نہیں، اور دوسری طرف یہ حقیقت پسندی ہے کہ نہ محبوب بے مثال تھا اور نہ ہی شاعر خود کو کامل سمجھتا تھا۔ ‘موسمِ گل کے سفیر’ والے شعر میں وہ اپنی عارضی حیثیت کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ تو محض خزاں کے شہر کا آخری پتا تھا۔ مقطع میں فراز نے ایک تلخ اور جرات مندانہ اعتراف کیا ہے کہ ظلم کے دور میں خاموشی سے جینا دراصل ضمیر کی کمزوری ہے، اور وہ خود کو بھی ان لوگوں میں شامل کرتے ہیں جو اس عہد میں ڈٹ کر کھڑے نہیں ہو سکے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| حقیر | معمولی، ذلیل، کم تر |
| اسیر | قیدی، گرفتار |
| حرف گیر | اعتراض کرنے والا، نکتہ چینی کرنے والا |
| بے نظیر | جس کی کوئی مثال نہ ہو، انوکھا |
| برگِ آخر | آخری پتا |
| سفیر | پیغام پہنچانے والا، نمائندہ |
| رفیقوں | دوستوں، ساتھیوں (رفیق کی جمع) |
| جی کڑا رکھنا | ہمت کرنا، حوصلہ رکھنا |
| ستم کا عہد | ظلم کا دور |
| با ضمیر | زندہ ضمیر والا، حق بات کہنے والا |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved