
Khuda-e-Sukhan
📅 1723 - 1810 | 📍 Indiaغزل -میر تقی میر
یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں
ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دو
جام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں
مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ
جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں
یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مے
یا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں
معذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑے
تم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں
بھاگی نماز جمعہ تو جاتی نہیں ہے کچھ
چلتا ہوں میں بھی ٹک تو رہو میں نشے میں ہوں
نازک مزاج آپ قیامت ہیں میرؔ جی
جوں شیشہ میرے منہ نہ لگو میں نشے میں ہوں
مجموعی مطلب
میر تقی میر کی یہ غزل کیف و مستی اور خود فراموشی کی ایک شاہکار تصویر ہے۔ اس کلام میں شاعر نے ‘نشے’ کو ایک استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے، جہاں وہ دنیا والوں سے التجا کرتا ہے کہ اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے اور اس کی باتوں کا برا نہ مانا جائے۔ غزل کے اشعار میں ایک عجیب سی بے نیازی اور درویشانہ رنگ ہے، جہاں میر کبھی دوستوں سے سہارے کی درخواست کرتے ہیں اور کبھی اپنی بے ترتیبی پر معذرت خواہ نظر آتے ہیں۔ مقطع میں میر نے اپنی ‘نازک مزاجی’ کا ذکر کر کے گویا قاری کو خبردار کیا ہے کہ اس نازک دل انسان سے الجھنا ٹھیک نہیں، کیونکہ وہ اس وقت اپنے ہوش میں نہیں ہے۔ یہ غزل میر کے کلام میں موجود شوخی اور سوز کا ایک نادر سنگم ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| جام | شراب کا پیالہ |
| قرط | گھونٹ، تھوڑی سی مقدار |
| درہمی | الجھاؤ، ابتری، بے ترتیبی |
| مانندِ جامِ مے | شراب کے پیالے کی طرح |
| معذور | مجبور، بے بس |
| بے طرح | غلط طریقے سے، ٹیڑھا میڑھا |
| سرگراں | ناراض، خفا، بیزار |
| ٹک | ذرا سی دیر، تھوڑا سا |
| نازک مزاج | حساس طبع، جلد برا ماننے والا |
| جوں شیشہ | شیشے کی طرح |
| منہ نہ لگو | بحث نہ کرو، الجھو نہیں |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved