
Shair-e-Inqilab
📅 1911 - 1984 | 📍 Pakistanغزل -فیض احمد فیض
غزل- فیض احمد فیض
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
جیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیں
ایک ایک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن
میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں
رقصِ مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو
سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں
کچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغ
وہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیں
اور کچھ دیر نہ گزرے شبِ فرقت سے کہو
دل بھی کم دکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں
مجموعی مطلب
فیض احمد فیض کی یہ غزل یادوں کے ایک ایسے سفر کو بیان کرتی ہے جہاں پرانے زخم اور بھولے ہوئے غم دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ مطلع میں کعبہ اور صنم کا استعارہ نہایت اچھوتا ہے، جو دل کی پاکیزگی اور اس میں بسنے والے پرانے جذبوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شاعر بڑے خوبصورت انداز میں یہ بھی کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی یادیں دھندلا جاتی ہیں اور جدائی کا درد کم ہونے لگتا ہے، لیکن یہ بھی ایک اداسی کا پہلو ہے۔ یہ غزل انسانی فطرت اور وقت کے مرہم کو نہایت نفاست سے بیان کرتی ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| صنم | محبوب / بت |
| سوئے مے خانہ | شراب خانے کی طرف |
| سفیرانِ حرم | حرم (عبادت گاہ) کے نمائندے / زاہد |
| مائل بہ کرم | مہربانی کرنے پر تیار |
| شبِ فرقت | جدائی کی رات |
| احسان اٹھانا | کسی کی مہربانی کا بوجھ تلے آنا |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved