Untitled design 5

Jaun Elia

Shair-e-Anokha Lehja

📅 1931 - 2002 | 📍 Pakistan

غزل – جون ایلیا

سارے رشتے تباہ کر آیا

غزل – جون ایلیا 

سارے رشتے تباہ کر آیا
دل برباد اپنے گھر آیا

آخرش خون تھوکنے سے میاں
بات میں تیری کیا اثر آیا

تھا خبر میں زیاں دل و جاں کا
ہر طرف سے میں بے خبر آیا

اب یہاں ہوش میں کبھی اپنے
نہیں آؤں گا میں اگر آیا

میں رہا عمر بھر جدا خود سے
یاد میں خود کو عمر بھر آیا

وہ جو دل نام کا تھا ایک نفر
آج میں اس سے بھی مکر آیا

مدتوں بعد گھر گیا تھا میں
جاتے ہی میں وہاں سے ڈر آیا

مجموعی مطلب
جون ایلیا کی یہ غزل اپنی ہی ذات سے مکمل دستبرداری اور جذباتی شکست کا اظہار ہے۔ مطلع میں شاعر تمام سماجی رشتوں کو ختم کر کے اپنے “دلِ برباد” کے ساتھ لوٹنے کا ذکر کرتا ہے، جو اس کی شدید تنہائی کو ظاہر کرتا ہے۔ غزل کے اشعار میں ایک عجیب سی خود اذیتی (Self-destructiveness) کا رنگ ہے، خاص طور پر اس شعر میں جہاں وہ ‘خون تھوکنے’ کے ذریعے اپنی بات میں اثر پیدا ہونے کی تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں۔ وہ اپنی پوری زندگی خود سے جدا رہنے اور اپنی ہی یادوں میں ایک اجنبی کی طرح بھٹکنے کا نوحہ سناتے ہیں۔ مقطع میں اپنے ہی گھر سے ڈر کر واپس آ جانا اس بات کی علامت ہے کہ شاعر کے لیے اب کوئی بھی پناہ گاہ باقی نہیں رہی، یہاں تک کہ اس کا اپنا گھر اور اس کا اپنا دل بھی اس کے لیے اجنبی اور خوفناک ہو چکے ہیں۔ یہ غزل جون ایلیا کے اس مخصوص مایوسانہ اور خود فراموشی کے فلسفے کی بھرپور ترجمانی کرتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
آخرشآخر کار، انجامِ کار
خون تھوکناشدید دکھ سہنا، کڑھنا، بیماری کی حالت
زیاںنقصان، گھاٹا
بے خبرناواقف، جسے علم نہ ہو
جداالگ، دور
نفرفرد، بندہ، شخص
مکر آناانکار کر دینا، پھر جانا
مدتوںبہت لمبے عرصے بعد

مزید متعلقہ پوسٹس

Ghazals of Rahat Indori
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
اب کے  تجدیدِ  وفا  کا نہیں امکاں  جاناں
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →