
koi laqab nahi mila
📅 1925 - 1972 | 📍 Pakistanغزل – ناصر کاظمی
غزل – ناصر کاظمی
دل میں اِک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
شور برپا ہے خانہِ دل میں
کوئی دِیوار سی گری ہے ابھی
بھری دُنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
تو شریکِ سخن نہیں ہے تو کیا
ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی
یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آ رہی ہے ابھی
شہر کی بے چراغ گلیوں میں
زِندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی
سو گئے لوگ اُس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی
تم تو یارو ابھی سے اُٹھ بیٹھے
شہر میں رات جاگتی ہے ابھی
کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی
اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
مجموعی مطلب
ناصر کاظمی کی یہ غزل انسانی دل کی بدلتی ہوئی کیفیات اور تنہائی کے کرب کی ایک بے حد نازک اور خوبصورت تصویر کشی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دل میں اچانک اٹھنے والی یاد کی لہر کسی تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح ہے جو ویران دل کو پھر سے بیدار کر دیتی ہے۔ غزل کے اشعار میں ایک عجیب سی بے چینی کا ذکر ہے، جہاں بھری دنیا میں بھی انسان خود کو ادھورا محسوس کرتا ہے۔ ناصر نے محبوب کی خاموشی کو بھی ایک گفتگو (ہم سخن) قرار دیا ہے، جو ان کے گہرے رومانوی احساس کی دلیل ہے۔ “بے چراغ گلیوں” اور “کھلی ہوئی کھڑکی” جیسے استعاروں کے ذریعے انہوں نے انتظار اور جستجو کی ایسی کیفیت بیان کی ہے جو قاری کے دل کو چھو لیتی ہے۔ مقطع میں ناصر اپنی مخصوص اداسی کے باوجود “وقت اچھا بھی آئے گا” کہہ کر زندگی کی طرف ایک مثبت اشارہ کرتے ہیں، جو مایوسی کے اندھیروں میں امید کی ایک شمع کی مانند ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| لہر | موج / خیال کی دستک |
| محمل | کجاوہ / اونٹ پر بیٹھنے کی جگہ |
| بستی | آبادی / شہر |
| تازہ | نئی / شاداب |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved