Rizwan Muqeem

Rizwan Muqeem

Ghazal Go Shair

📅 1991 - Ta-haal | 📍 Pakistan

آنسو دکھائی دیتے ہیں کب بارشوں کے بیچ

آنسو دکھائی دیتے ہیں

 غزل –  رضوان مقیمٓ

آنسو دکھائی دیتے ہیں کب بارشوں کے بیچ
جینا بھی اک کمال ہے ان حادثوں کے بیچ

مزدور نیند پوری کرے یا وہ دیکھے خواب
اک خواب ٹوٹتا ہے کئی کروٹوں کے بیچ

اک عکس تھا کہ جس سے تھی اچھی دعا سلام
وہ بھی نہ ٹوٹ جائے کہیں آئنوں کے بیچ

نطشے کا فلسفہ ہو کہ اقبال کی خودی
دونوں ہی دفن ہوگئے ہیں سازشوں کے بیچ

اک دائرہ ہے زندگی اس مستطیل میں
چھپنا فضول جائے گا سب زاویوں کے بیچ

ٹانکا کہاں چھپا ہے کہاں کوئی چاک ہے
کرتے کا رہ گیا ہے بھرم سلوٹوں کے بیچ

آنکھوں نے ضبط سیکھ لیا ایک عمر بعد
کب تک بھلا وہ رہتی مری عادتوں کے بیچ

ٓپیتا اگر نہ زہر تو پھر سوچ یہ مقیم
سقراط کیسے رہتا بھلا بزدلوں کے بیچ

مجموعی مطلب

رضوان مقیم صاحب کی یہ غزل فلسفیانہ بصیرت، معاشرتی حقیقت پسندی اور انسان کی اندرونی کشمکش کا شاندار مرقع ہے۔ شاعر بتاتے ہیں کہ دکھوں اور ناگہانی حالات کے ہجوم میں اپنے غموں کو چھپا کر جینا ہی اصل کمال ہے۔ غزل میں غریب مزدور کی معاشی بدحالی اور نبردازما زندگی پر گہرا طنز ہے جس کے پاس خواب دیکھنے کی بھی جگہ یا فرصت نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ شاطر معاشرے کی سازشوں کا ذکر ہے جہاں نطشے اور اقبال جیسے عظیم فکر و فلسفے بھی دب کر رہ جاتے ہیں۔ شاعر بتاتے ہیں کہ انسان اپنی مجبوریوں اور عیبوں کو پردہ داری کے ذریعے چھپانے کی کوشش کرتا ہے مگر آخرکار صبر و ضبط ہی اس کا سہارا بنتا ہے۔ مقطع میں سقراط کا استعارہ استعمال کرتے ہوئے حق گو اور باضمیر انسان کی اس قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے جو بزدل معاشرے میں جھکنے کے بجائے زہر کا پیالہ پینا گوارا کر لیتا ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
حادثوںناگہانی واقعات / صدمات
عکسسایہ / پرچھائیں / تصویر
دعا سلامتعلق / شناساائی / جان پہچان
نطشے (Nietzsche)مغرب کا مشہور جرمن فلسفی
خودیاحساسِ خود داری / عزتِ نفس / عرفانِ ذات
سازشوںچھپی ہوئی تدبیریں / بدنیتی کے منصوبے
مستطیلچار کونوں والی شکل (مادی دنیا یا چاردیواری کی علامت)
زاویوںکونے / رخ / پہلو (Angles)
چاکگریبان یا کپڑے کا درز / پھٹن
سلوٹوںکپڑے پر پڑنے والے بل یا شکنیں
ضبطصبر / برداشت / خود پر قابو
سقراط (Socrates)یونان کا عظیم فلسفی جسے حق گوئی پر زہر کا پیالہ پلایا گیا

مزید متعلقہ پوسٹس

ﺟﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ
اپنی رسوائی تیرے نام کا چرچا دیکھوں 
اوجھل سہی نگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں
آدمی وقت پر گیا ہوگا – جون ایلیا
← پچھلی پوسٹ