
Shahenshah-e-Ghazal
📅1797 - 1869 | 📍 Indiaغزل- مرزا غالب
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
مجموعی مطلب
مرزا غالب کی یہ غزل انسانی جذبات اور الجھنوں کی ایک لاجواب تصویر کشی ہے۔ اس میں شاعر اپنے معصوم دل سے مخاطب ہو کر اس کی بے چینی کا سبب پوچھتے ہیں اور محبت میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔ غزل کے اشعار میں ایک طرف محبوب کی بے نیازی اور شاعر کی تڑپ کا ذکر ہے، تو دوسری طرف غالب نے نہایت خوبصورتی سے اپنی خودداری کو بھی بیان کیا ہے کہ اگر محبوب چاہے تو وہ اپنے دل کی بات (مدعا) کہہ سکتے ہیں۔ اس غزل کا ایک پہلو فلسفیانہ بھی ہے جہاں وہ کائنات کی حقیقت اور انسانی وجود کے ہنگاموں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ غزل محبت، تصوف اور انسانی نفسیات کا ایک حسین امتزاج ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| دلِ ناداں | نادان یا ناسمجھ دل |
| مشتاق | شوق رکھنے والا، ملنے کا خواہش مند |
| بیزار | تنگ آیا ہوا، بیزار یا ناخوش |
| ماجرا | قصہ، واقعہ، معاملہ |
| مدعا | مقصد، مطلب، دل کی بات |
| ہنگامہ | شور و غل، دنیا کی چہل پہل |
| نثار کرنا | قربان کرنا، وار دینا |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved