Adeem Hashmi 4

Mirza Ghalib

Shahenshah-e-Ghazal

📅1797 - 1869 | 📍 India

غزل- مرزا غالب

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے

غزل- مرزا غالب


دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے

مجموعی مطلب
مرزا غالب کی یہ غزل انسانی جذبات اور الجھنوں کی ایک لاجواب تصویر کشی ہے۔ اس میں شاعر اپنے معصوم دل سے مخاطب ہو کر اس کی بے چینی کا سبب پوچھتے ہیں اور محبت میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔ غزل کے اشعار میں ایک طرف محبوب کی بے نیازی اور شاعر کی تڑپ کا ذکر ہے، تو دوسری طرف غالب نے نہایت خوبصورتی سے اپنی خودداری کو بھی بیان کیا ہے کہ اگر محبوب چاہے تو وہ اپنے دل کی بات (مدعا) کہہ سکتے ہیں۔ اس غزل کا ایک پہلو فلسفیانہ بھی ہے جہاں وہ کائنات کی حقیقت اور انسانی وجود کے ہنگاموں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ غزل محبت، تصوف اور انسانی نفسیات کا ایک حسین امتزاج ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

>
لفظمعنی
دلِ ناداںنادان یا ناسمجھ دل
مشتاقشوق رکھنے والا، ملنے کا خواہش مند
بیزارتنگ آیا ہوا، بیزار یا ناخوش
ماجراقصہ، واقعہ، معاملہ
مدعامقصد، مطلب، دل کی بات
ہنگامہشور و غل، دنیا کی چہل پہل
نثار کرناقربان کرنا، وار دینا

مزید متعلقہ پوسٹس

میرے ہو کے رہو وصی شاه
یاد آتا ہے روز و شب کوئی
جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
زندگی کو زخم کی لذت سے مت محروم کر
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →