
Modern Urdu Poet
📅 1944 - 2023 | 📍 Pakistanغزل-امجد اسلام امجد
اوجھل سہی نگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں
اے رات ہوشیار کہ ہارا نہیں ہوں میں
در پیش صبح و شام یہی کشمکش ہے اب
اُس کا بنوں میں کیسے کہ اپنا نہیں ہوں میں
مجھ کو فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں مگر
جتنا برا سمجھتے ہو اتنا نہیں میں
اس طرح پھیر پھیر کہ باتیں نہ کیجیئے
لہجے کا رخ سمجھتا ہوں بچہ نہیں ہوں میں
ممکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرز منافقت
دنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں
امجد تھی بھیڑ ایسی کہ چلتے چلے گئے
گرنے کا ایسا خوف تھا ٹھہرا نہیں ہوں میں
یہ غزل امجد اسلام امجد کی ہے، جس میں شاعر اپنی خودداری، سچائی اور اندرونی شخصیت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل یا کمزور دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں وہ ہارا ہوا انسان نہیں۔شاعر دنیا کے دوغلے پن اور منافقت سے اختلاف کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ لوگ اُسے جتنا برا سمجھتے ہیں، وہ اتنا برا نہیں۔ وہ لہجوں اور رویوں کو سمجھنے والا باشعور انسان ہے، اس لیے مصنوعی محبت یا جھوٹی باتوں کو پہچان لیتا ہے۔آخری شعر میں شاعر زندگی کی بھیڑ اور وقت کے دباؤ کا ذکر کرتا ہے کہ وہ مسلسل چلتا رہا، کیونکہ رک جانے یا گر جانے کا خوف تھا۔ پوری غزل میں خود اعتمادی، سچائی اور انسان کے باطن کی کشمکش نمایاں ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| اوجھل | چھپا ہوا، نظروں سے دور |
| ہوشیار | خبردار، محتاط |
| درپیش | سامنے ہونا، پیش آنا |
| کشمکش | اندرونی جدوجہد، ذہنی لڑائی |
| دعویٰ | اعلان، یقین سے کہنا |
| لہجہ | بات کرنے کا انداز |
| رخ | سمت، انداز، طرف |
| طرزِ منافقت | دوغلا پن، جھوٹا رویہ |
| مزاج | طبیعت، سوچ، عادت |
| بندہ | تابعدار، ماننے والا |
| بھیڑ | ہجوم، بہت زیادہ لوگ |
| ٹھہرا | رکا |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved