
Mufti-e-Hind
📅 1892 - 1981 | 📍 Pakistan“دیوان “سامانِ بخشش
نعت- حضور مفتیِ ہند
پیام لے کے جو آئی صبا مدینے سے
مریضِ عشق کی لائی دوا مدینے سے
سنو تو غور سے آئی صدا مدینے سے
قریں ہے رحمت و فضلِ خدا مدینے سے
ملے ہمارے بھی دل کو جلا مدینے سے
کہ مہر و ماہ نے پائی ضیا مدینے سے
تمہاری ایک جھلک نے کیا اسے دلکش
فروغِ حسن نے پایا شہا مدینے سے
تمام شاہ و گدا پل رہے ہیں اسی در سے
ملی جہان کو روزی صدا مدینے سے
جو آیا لے کے گیا کون لوٹا خالی ہاتھ
بتادے کوئی سنا ہو جو لا مدینے سے
بتادے کوئی کسی اور سے بھی کچھ پایا
جسے ملا جو ملا وہ ملا مدینے سے
وہ آگیا خلد میں جو آگیا مدینے میں
گیا وہ خلد سے جو چل دیا مدینے سے
نہ چین پائے گا یہ غم زدہ کسی صورت
مریضِ غم کو ملے گی شفا مدینے سے
لگاؤ دل کو نہ دنیا میں ہو کسی شے سے
تعلق اپنا ہو کعبے سے یا مدینے سے
گدا کی راہ جہاں دیکھیں پھر نوا کیوں ہو
نوا سے پہلے ملے بے نوا مدینے سے
چمن کے پھول کھلے مردہ دل بھی جی اٹھے
نسیمِ خلد سے آئی ہے یا مدینے سے
کرے گی مردوں کو زندہ یہ تشنوں کوسیراب
وہ دیکھو اٹھی کرم کی گھٹا مدینے سے
مدینہ چشمۂ آبِ حیات ہے یارو
چلو ہمیشہ کی لے لو بقا مدینے سے
فضائے خلد کے قرباں مگر وہ بات کہاں
ملائیں حضرتِ رضوان ذرا مدینے سے
ہمارے دل کو تو بھایا ہے طیبہ ہی زاہد
تمہیں ہے مکہ تو ہوگا سوا مدینے سے
چلے جو طیبہ سے مسلم تو خلد میں پہنچے
کہ سیدھا خلد کا ہے راستہ مدینے سے
تم ایک آن میں آئے گئے تمہارے لیے
دو گام بھی نہیں عرشِ علا مدینے سے
تمہارے قدموں پہ سر صدقے جاں فدا ہو جائے
نہ لائے پھر مجھے میرا خدا مدینے سے
ترے حبیب کا پیارا چمن کیا برباد
الہیٰ نکلے یہ نجدی بلا مدینے سے
ترے نصیب کا نوریؔ ملے گا تجھ کو بھی
لے آئے حصہ یہ شاہ و گدا مدینے سے
.
نوٹ – یہ خوبصورت نعت شریف حضور مفتی ِاعظم ھند کے مشہور نعتیہ دیوان” سامانِ بخشش “سے لی گئی ہے
مجموعی مطلب
اس نعتِ پاک کا مرکزی خیال مدینہ منورہ کی عظمت، برکات اور وہاں سے ملنے والی روحانی شفا ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ مدینے سے آنے والی ہوا محض ہوا نہیں، بلکہ عشقِ رسول ﷺ کے بیماروں کے لیے شفا کا پیغام اور دوا ہے۔ کائنات کی ہر بڑی سے بڑی اور روشن چیز (جیسے سورج اور چاند) نے بھی اپنی چمک اور روشنی مدینے والے آقا ﷺ کے صدقے ہی پائی ہے۔ اس دربار سے دنیا کا ہر امیر و غریب (شاہ و گدا) فیض پا رہا ہے اور کوئی بھی وہاں سے خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ نعت کے آخری اشعار میں مدینہ منورہ کو “آبِ حیات” (ہمیشہ کی زندگی دینے والا چشمہ) قرار دیا گیا ہے اور جنت کے نگران فرشتے (حضرتِ رضوان) سے کہا گیا ہے کہ جنت اپنی جگہ خوبصورت سہی، لیکن مدینے کے حسن اور مرتبے کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| صبا | صبح کی ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا |
| مریضِ عشق | عشق کا بیمار (یہاں مراد عشقِ رسول ﷺ کا بیمار) |
| جلا | روشن کرنا / چمکانا (دل کو زندہ کرنا) |
| مہر و ماہ | سورج اور چاند |
| ضیا | روشنی / چمک |
| فروغِ حسن | خوبصورتی کا نکھار / چمک دمک |
| شہا | اے بادشاہ! (حضور ﷺ کی ذاتِ مبارکہ مراد ہے) |
| شاہ و گدا | بادشاہ اور فقیر |
| صدا | ہمیشہ (یہاں 'ہمیشہ' کے معنی میں استعمال ہوا ہے) |
| خلد | جنت / بہشت |
| بے نوا | فقیر / مجبور / جس کے پاس کچھ نہ ہو |
| نسیمِ خلد | جنت کی ٹھنڈی ہوا |
| تشنوں | پیاسوں (تشنہ کی جمع) |
| آبِ حیات | وہ پانی جسے پی کر ہمیشہ کی زندگی مل جائے |
| بقا | ہمیشہ کی زندگی / قائم رہنا |
| حضرتِ رضوان | جنت کے نگران فرشتہ (داروغۂ جنت) |
| خلد | جنت / ہمیشہ رہنے کا باغ |
| عرشِ علا | سب سے بلند عرش / اللہ تعالیٰ کا عرش |
| دو گام | دو قدم (بہت ہی کم فاصلہ) |
| شاہ و گدا | بادشاہ اور فقیر (یعنی ہر خاص و عام) |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved