
Shair e Mashriq
📅 1877 - 1938 | 📍 Pakistan“بانگِ درا”
غزل – علامہ اقبال
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
تمہارے پیامی نے سب راز کھولا
خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی
بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا
تری آنکھ مستی میں ہوشیار کیا تھی
تأمل تو تھا ان کو آنے میں قاصد
مگر یہ بتا طرزِ انکار کیا تھی
کھینچے خود بخود جانبِ طور موسیٰ
کشش تیری اے شوقِ دیدار کیا تھی
کہیں ذکر رہتا ہے اقبالؔ تیرا
فسوں تھا کوئی، تیری گفتار کیا تھی
مجموعی مطلب
یہ علامہ اقبالؔ کے ابتدائی دور کی بہت ہی حسین اور دلکش غزل ہے، جس میں عاشقی و معشوقی کے روایتی اور کلیاتی انداز کو بیان کیا گیا ہے۔ غزل کے شروع کے اشعار میں محبوب کے وعدے سے مکرنے اور اس کی مست مگر ہوشیار آنکھوں کا ذکر ہے۔ آخر میں کوہِ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جانے کو عشق اور شوقِ دیدار کی سچی کشش بتایا گیا ہے۔ مقطع (آخری شعر) میں اقبال اپنے بیان کے اثر اور ہر جگہ ہونے والے اپنے چرچے پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ان کی گفتگو کا جادو (فسوں) ہے یا خدا کا کوئی خاص کرم۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| تکرار< | بحث، اعتراض، انکار و ضد |
| عار ہونا | شرم یا ہچکچاہٹ محسوس ہونا |
| پیامی | پیغام لانے والا، قاصد |
| تاڑا | بھانپ لیا، پہچان لیا |
| تأمل | ہچکچاہٹ، سوچ بچار، دیر کرنا |
| طرزِ انکار | منع کرنے کا طریقہ یا انداز |
| جانبِ طور | کوہِ طور کی طرف (جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام جاتے تھے) |
| فسوں | جادو، سحر، گہرا اثر کرنے والی چیز |
| گفتار | بات چیت، گفتگو، سخن کلام |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved