
Shair-e-Inqilab
📅 1911 - 1984 | 📍 Pakistanغزل -فیض احمد فیض
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
نہ تن میں خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں
نماز شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی
کسی طرح تجھے بزم مے کدے والو
نہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ لہو ہی سہی
گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک اے دل
کسی کے وعدہ فردا کی گفتگو ہی سہی
دیار غیر میں محرم اگر نہیں کوئی
تو فیض ذکر وطن اپنے روبرو ہی سہی