Rizwan Muqeem

Rizwan Muqeem

Ghazal Go Shair

📅 1991 - Ta-haal | 📍 Pakistan

 رکھتا ہوں بھاؤ تاؤ میں رفتار منفرد

رکھتا ہوں بھاؤ تاؤ میں

 غزل –  رضوان مقیمٓ

 رکھتا ہوں بھاؤ تاؤ میں رفتار منفرد
سو ڈھونڈتا ہوں اپنا خریدار منفرد

ہر ایک پر نہیں ہے نظر اس کی ایک سی
رکھتی ہے وہ شکار کا معیار منفرد

غصے میں بولتی نہیں بس دیکھتی ہے وہ
کرتا ہے کون اس طرح تکرار منفرد

وہ کر رہی ہے میری حمایت سبھی کے بیچ
اس بار ہو گا اسکا مگر وار منفرد

ٹیبل سجائے رکھتا ہوں ہر روز صبح و شام
رکھتا ہوں کپ دو چائے کے ہر بار منفرد

کچھ دیر ہم بھی مرکزِ محفل رہے ہیں یار
اتنا تو ہم بھی رکھتے تھے کردار منفرد

آثار منفرد تھے دراڑیں تھیں منفرد
مجھ کو یقیں تھا گھر ہو گا مسمار منفرد

!کانٹوں سے اُنسیٌَت کا یہ عالم ہے دوستو
خود پالتا ہوں اپنے لیے خار منفرد

اک ایسا ہو جہاں کہ سبھی مسکرا سکیں
جنت سے پہلے دیکھ لیں سنسار منفرد

ہچکی میں روک لیتا ہوں ہنستے ہوئے، مقیم
کہتے ہیں لوگ مجھ کو اداکار منفر

مجموعی مطلب

رضوان مقیم صاحب کی یہ غزل انفرادیت، خود داری، اور اندرونی دکھوں کو چھپانے کے فن پر مبنی ہے۔ شاعر بتاتے ہیں کہ ان کا اندازِ زیست عام لوگوں سے الگ ہے، چاہے وہ تعلقات ہوں، محبت کے روپ میں ملنے والے زخم ہوں یا محفلوں کی توجہ۔ وہ محبوب کی خاموش ناراضگی اور اندازِ گفتگو کی انفرادیت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسان باہر سے جتنا بھی مسکرائے، اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے۔ یہ غزل اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اپنے غموں کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپانا اور کانٹوں سے بھی محبت نبھانا ہی انسان کو ایک منفرد فنکار اور باوقار شخصیت بناتا ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
بھاؤ تاؤقیمت طے کرنا / سودا بازی
تکراربحث / لتڑنا / بار بار کہنا
وارحملہ / چوٹ
مرکزِ محفلمحفل کی توجہ کا مرکز / اہم شخص
آثارنشانیاں / علامات
مسمارتباہ / نہادم / گرا ہوا
اُنسیَّتمحبت / لگاؤ / تعلق
خارکانٹا
سنساردنیا / عالم
ہچکیسانس کا اٹکنا / ہچکی آنا

مزید متعلقہ پوسٹس

چمن میں رنگ بہار اترا تو میں نے دیکھا
اپنی رسوائی تیرے نام کا چرچا دیکھوں 
ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
ﺟﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →