ٹوٹنے والے بکھر کے بھی صدا نہیں دیتے, مِٹا دیتے ہیں اپنی ہستی کو دغا نہیں دیتے-urdu shairy

ٹوٹنے والے بکھر کے بھی صدا نہیں دیتے مِٹا دیتے ہیں اپنی ہستی کو دغا نہیں دیتے درد تو دیتے ہیں یہ درد کا درماں بن کر دردِ دل کی مگر کبھی دُعا نہیں دیتے اُجاڑ دیتے ہیں سارا ہی چمن یہ زمانے والے مہکتے ہوۓ پھولوں کومگر رِدا نہیں دیتے عجب دستور دیکھا ہے […]

یہ دل اداس ہے بہت کوئی پیغام ہی لکھ دو- تم اپنا نام نہ لکھو گمنام ہی لکھ دو

یہ دل اداس ہے بہت کوئی پیغام ہی لکھ دوتم اپنا  نام  نہ لکھو  گمنام  ہی لکھ  دو  میری قسمت میں غمِ تنہائی  ہے لیکن تمام عمر نہ لکھو  مگراک شام ہی لکھ دو ضروی تو نہیں کہ مل جائے سکوں ہر کسی کوسرِ بزم نہ آو سرِ راہ ہی ملو  یہ جانتا ہوں عمر بھر

صبح بخیردغا – اے اللہ ! ہمیں اتنا بدل دے

  السلام عليكم ورحمة الله وبركاته صبح بخیر اے اللہ ! ہمیں اتنا بدل دے یہاں تک کہ تو ہم سے محبت کرنے لگے۔ آمین یا رب العالمين ————————————- Assalamu Alaikum warahmatullahi wabarakatuh Subah Bakhair Ay Allah  Humein Itna Badal Day Yahan Tak k Tu Hum se Mohabbat  Karne Lage. Ameen yaa Rabbal ‘Aalamiin

اوروں کی کہانی میں سمایا نہیں کرتے, دل، ثانوی کردار نبھایا نہیں کرتے- اتباف ابرک

اوروں کی کہانی میں سمایا نہیں کرتے دل، ثانوی کردار نبھایا نہیں کرتے کیا خوبیِ قسمت ہے محبت کے سوا ہم جھانسے میں کسی اور کے آیا نہیں کرتے ایسا نہیں آئینہ دکھانا نہیں آتا بس مارے مروت کے دکھایا نہیں کرتے عادت سے ہیں مجبور برا سمجھو تو سمجھو گر دل نہ ملے ہاتھ

مجھے تم یاد آتے ہو – کہیں کوئی سمندر ہو- کہیں کوئی کنارہ ہو

مجھے تم یاد آتے ہو  کہیں کوئی سمندر ہو کہیں کوئی کنارہ ہو کہیں قدرت کا مناظرکا  کوئی دلکش نظارہ ہو کہیں بھیگے سے بادل  نے کوئی موسم سنوارہ ہو کوئی سمندر سا موتی ہو کوئی روشن سا ستارہ ہو کسی چشمے میں قدرت نے دھنک رنگ اتارا ہو اس لمحے مجھے تم یاد آتے

دیکھ کر دل کشی زمانے کی – آرزو ہے فریب کھانے کی- عبدالحمید عدم

 دیکھ کر دل کشی زمانے کی آرزو ہے فریب کھانے کی اے غم زندگی نہ ہو ناراض مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی ظلمتوں سے نہ ڈر کہ رستے میں روشنی ہے شراب خانے کی آ ترے گیسوؤں کو پیار کروں رات ہے مشعلیں جلانے کی کس نے ساغر عدمؔ بلند کیا تھم گئیں گردشیں

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا , وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا صبح دم چھوڑ گیا نکہت گل کی صورت رات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے وہ

تیری جستجو کےحصار سے – تیرے خواب تیرے خیال سے

   تیری جستجو کےحصار سے  تیرے خواب تیرے خیال سے میں وہ شخص ہوں جو , کھڑا رہا تیری چاہتوں سے ذرا پرے کبھی دل کی بات کہی نہ تھی جو کہی تو وہ بھی دبی دبی میرے لفظ پورے تو تھے مگر تیری سماعتوں سے ذرا پرے تو چلا گیا میرے ہمسفر ذرا دیکھ

تیری جستجو کےحصار سے – تیرے خواب تیرے خیال سے

   تیری جستجو کےحصار سے  تیرے خواب تیرے خیال سے میں وہ شخص ہوں جو , کھڑا رہا تیری چاہتوں سے ذرا پرے کبھی دل کی بات کہی نہ تھی جو کہی تو وہ بھی دبی دبی میرے لفظ پورے تو تھے مگر تیری سماعتوں سے ذرا پرے تو چلا گیا میرے ہمسفر ذرا دیکھ

Scroll to Top