
Ghazal Go Shair
📅 1991 - Ta-haal | 📍 Pakistanغزل – رضوان مقیمٓ
خوب پیسہ کمانا پڑتا ہے
اپنا سکّہ جمانا پڑتا ہے
مانگا کرتے نہیں کسی سے دل
دوستا دل چُرانا پڑتا ہے
دیکھنے کو کہ کون ہے نزدیک
کس قدر دور جانا پڑتا ہے
میں وہ جنگل ہوں جس کی صحبت میں
شاخ در شاخ آنا پڑتا ہے
خالی برتن کا شور بھرتا ہوں
خود میں کہرام اٹھانا پڑتا ہے
روکنی پڑتی ہے کبھی ہچکی
ہاں کبھی مسکرانا پڑتا ہے
تیرے قد کی برابری کے لیئے
خود کو کتنا گرانا پڑتا ہے
آنکھیں ویران کرنا پڑتی ہیں
دشت سے پھول لانا پڑتا ہے.
۔
رضوان مقیم صاحب کی یہ غزل دنیا داری، تعلقات کی پیچیدگیوں، اور انسانی نفس کی کشمکش کو بہت شاندار انداز میں بیان کرتی ہے۔ شاعر بتاتے ہیں کہ اس مادی دنیا میں اپنی پہچان بنانے اور وجود تسلیم کرانے کے لیے سخت جدوجہد اور سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ حقیقی رشتوں اور اپنے مخلص لوگوں کی پہچان اکثر مشکلات اور دوریاں اختیار کرنے کے بعد ہی ہوتی ہے۔ غزل کا ہر شعر اندرونی تنہائی، غم کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپانے کے فن، اور محبت یا تعلق کی خاطر اپنی خود داری پر پڑنے والے بوجھ کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہ کلام بتاتا ہے کہ کسی خاص مقام یا مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انسان کو اپنے اندر کے صحرا سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| سکّہ جمانا | رعب قائم کرنا / اپنی جگہ بنانا |
| صحبت | ہم نشینی / ساتھ / قربت |
| شاخ در شاخ | شاخة در شاخ / پھیلتے جانا / گھنا ہونا |
| کہرام | چیخ و پکار / شور و غوغا / ہلچل |
| برابری | ہم سری / برابر ہونا |
| گرانا | پست کرنا / معیار یا عزت کم کرنا |
| ویران | اجاڑ / خالی / بوجھل |
| دشت | صحرا / بیابان / ویرانہ |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved